جھلملاتے تارو ں میں لپٹی ہوئی لیلائے شب
جانے کب سے اس طرح کا ایک پیکر دل میں ہے
نیلگوں سی جھیل میں نیلا ہے عکسِ آسماں
ایک منظر آنکھ میں ہے ایک منظر دل میں ہے
حادثے اتنے ہوئے محسوس کُچھ ہوتا نہیں
ایسے لگتا ہے کہ جیسے سنگِ مر مر دل میں ہے
اُلجھنیں،اندیشے،خدشے،وسوسے ہیں اس قدر
دل ضرور اک اور اس دل کے برابر دل میں ہے
ایک حُسنِ بے کراں ہے،اک ادائے بے بہا
اک تصّو ر،ہر تصّور سے جو بر تر، دل میں ہے
دل گیا پر آپ دل سے جا نہ پائیں گے کبھی
یادِ ماضی، فکرِ فردا سے بھی بڑھ کر دل میں ہے
